Wahdat Vision

Believes in this Islam and the cornerstone of all its efforts is to attain the pleasure of Allah and succeed in the hereafter. Sincerity in all the acts viz. purification of self, reforming the society, establishing social justice etc. is the only prerequisite for their acceptance in the eyes of Allah.

رمضان المبارک کی آمد ہی سے مسجدوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ لوگ مسجد سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر پنج وقتہ نمازوںکے علاوہ تراویح اور ج...


رمضان المبارک کی آمد ہی سے مسجدوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ لوگ مسجد سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ خاص طور پر پنج وقتہ نمازوںکے علاوہ تراویح اور جمعہ میں زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں۔ بڑوں کے ساتھ بچے بھی بڑی تعداد میں مسجد آتے ہیں۔
ہماری مسجدوں میں بچو ں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بچے فطرتاً شریر، چلبلے اور باتونی ہوتے ہیں۔ انھیں اس بات کا شعور نہیںہوتا کہ کس وقت کیا بات کہی جائے یا کس طرح کا رویہ اپنایا جائے۔ اسی وجہ سے مسجد میں بھی ان کا شوروغل ہوتا ہے اور اس سے بڑوں کی نمازوں اور دیگر عبادات میں خلل واقع ہوتاہے۔
ہم نے اکثر مسجدوں میں کوئی ایک ایسے صاحب کو ضرور دیکھا ہوگا جو اس بات کے ذمہ دار ہوتے ہیں کہ بچوں کو خامو ش کرائیں، ڈانٹ ڈپٹ کرے اور ضرورت پڑنے پر انھیں باہر کا راستہ دکھائیں۔ ایسے صاحبو ں کو مسجد انتظامیہ کی طرف سے یہ ذمہ داری تفویض نہیں کی جاتی بلکہ یہ ذمہ داری وہ خود اپنے نازک کندھوں پر رکھ لیتے ہیں۔ اور اس کی ادائیگی میں اس طرح منہمک ہوجاتے ہیں کہ بسا اوقات ان کی نما ز بھی متاثر ہوجاتی ہے اور بچوں کو خاموش کرانے کی فکر میں ان کی خود کی آواز اتنی بلند ہوجاتی ہے کہ وہ نماز میں خلل پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بچے بھی اس طرح کے کردار کا خوب لطف اٹھاتے ہیں اوربظاہر توان کے احکام کی پابندی کرتے ہیں لیکن جیسے ہی وہ صاحب نماز میں شامل ہوتے ہیں، بچے پھر اپنی مصروفیات میں لگ جاتے ہیں۔
مسلم معاشرے میں مسجد کی بڑی اہمیت ہے، بلکہ وہ مرکزی مقام رکھتی ہے۔ مسجدیں مسلم معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔ وہ مسلمانوں کی نہ صرف عبادتوں کا مرکز ہے بلکہ ان کی دینی اور اخلاقی تربیت اور اصلاح کے لیے بھی ضروری ہے۔ محلے کے ہر مسلمان کو اپنے محلے کی مسجد سے وابستگی اختیار کرنا ضروری ے۔ ان میں بچے بھی شامل ہے۔ لیکن بچوں کے ساتھ مسجدوں میں جو سلوک ہوتا ہے وہ ان کی دینی اصلاح و تربیت میں مانع ہوتا ہے۔ بچوں میں احساس کمتری ، دینی بیزاری اور نفرت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ اور وہ مستقبل میں بے نمازی یا دین بیزار بھی بن سکتے ہیں۔ چنانچہ مسجدوں میں بچوں کے ساتھ بہتر سلوک ہونا چاہئے۔
عہد نبوی سے ہمیں اس سلسلہ میں رہنمائی ملتی ہے۔ سیرت نبی کریمؐ میں ہمیں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں بچوں کا مسجد میں موجود ہونا اور آپؐ کا ان سے اظہار محبت کرنا ثابت ہے۔
رسول کریمؐ مسجد میں حضرات حسن و حسینؓ کو اٹھائے ہوئے تشریف لایا کرتے۔ ایک مرتبہ نمازِ عشاء میں آپ  ﷺ  مسجد میں گئے تو آپ  ﷺ  نے سجدہ بہت طویل کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے سر اُٹھاکر دیکھا تو بچہ رسو ل کریم  ﷺ  کی پشت مبارک پر بیٹھا ہوا ہے اور آپ  ﷺ  سجدہ ریز ہیں۔ میں دوبارہ سجدے میں چلاگیا۔ جب رسول اللہ  ﷺ  نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے کہا ’’یا رسول اللہ نماز کے دوران آپ نے ایک سجدہ بہت طویل کیا تو ہم نے سمجھا شاید کوئی نیا حکم صادر ہوگیا ہے۔ آپ  ﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔البتہ میرا بیٹا میرے اوپر بیٹھ گیا تھا۔ لہٰذا میں نے جلدی اٹھنا پسند نہیں کیا تاکہ وہ اپنی خوشی پوری کرے۔ (نسائی/ مسند احمد)
ابو مالک اشعریؓ مسجد نبوی میں صفوں کی ترتیب کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ  مَردوں کو بچوں سے آگے اور بچوں کو ان سے پیچھے کردیتے اور عورتوں کو بچوں کی صف کے پیچھے کرتے۔ یعنی مسجد نبوی میں بچوں کے لیے خاص توجہ دی جاتی اور ان کے لیے جگہ متعین کی جاتی۔ 
حضرت عبد اللہ بن بریدہؓ نے اپنے باپ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ  ﷺ  ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ حضرت حسنؓ و حسینؓ آگئے ۔ دونوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی اور لڑکھڑاکر گررہے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ  ﷺ  منبر سے اتر آئے اور دونوں کو اٹھاکر اپنے سامنے بٹھالیا اور فرمانے لگے۔:
 ’’صدق اللہ اَنَّمَا اموالکم و اولادکُم فِتنۃ۔‘‘( اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے کہ تمہارا مال و دولت اور تمہاری اولاد فتنہ ہے) 
پھر فرمایا کہ میں نے دونوں بچوں کو گرتے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ اپنی بات منقطع کرکے انھیں اُٹھالیا۔‘‘  (ترمذی)
حضرت ابو قتادہؓ انصاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ لوگوں کو نماز کی امامت کراتے ہوئے امامہ بنت زینبؓ (آپؐ کی نواسی) کو اٹھالیا کرتے تھے اور جب سجدے میں جاتے تو اسے بٹھادیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اسے اٹھالیتے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
مسلمان بچے ملت اسلامیہ کا مستقبل ہیں۔ ان کی بہترین تعلیم و تربیت سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ بچوں کے لیے جس طرح گھر اور اسکول تربیت گاہ ہیں، اسی طرح مسجد بھی بچوں کے لیے ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔ چنانچہ مسجدوں کو بچوں کی تربیت گاہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مسجد میں بچوں کے لیے الگ انتظامات کیے جانے چاہئے جس میں انھیں مسجد کا احترام، نماز و دیگر عباتیں اور نظم و ضبط سکھایا جاسکے۔
٭ مسجد انتظامیہ کی طرف سے کسی ایسی شخص کو جو بچوں سے خوش طبعی اور محبت کا برتاؤ کرسکتا ہو، ان کی ذمہ داری دی جانی چاہئے۔ وہ شخص انھیں شوروغل سے منع کریں، ساتھ ہی ساتھ انھیں پیار و محبت سے نظم و ضبط سکھائے اور انھیں مسجد کے تقدس او رنماز کی اہمیت سے بھی آگاہ کرے۔
٭ بچوں میں نمازوں کا اور دیگر عبادتوں کے شوق جگانے کے لیے مختلف مقابلے بھی رکھے جائیں اور  چھوٹےچھوٹے انعامات تقسیم کیے جائیں۔
٭  محلے کی مسجد میں بچوں کے لیے ہفتہ وار اجتماعات کا انعقاد کیاجائے جس میں انھیں قرأت، حمد ونعت ، 
مختلف موضوعات پر تقاریر کروائی جائے۔ انھیں سیرت رسولؐ اور تاریخ اسلام سے آگاہ کیا جائے اور 
کچھ مٹھائی یا ٹافیاں تقسیم کی جائے۔
 ترکی کی مسجدوں میں یہ لکھا ہوا دیکھاگیا ہے کہ ’’جب تک مسجدوں میں پیچھے بچوں کا شوروغل سنائی دیتا رہے گا اس وقت تک اسلام کا مستقبل محفوظ ہے۔‘‘ترکی میں اور بہت سے عرب ممالک میں مسجدوں سے لگ کر بچوں کے لیے پارک، پلے زون، لائبریری اور ایکٹیوٹی زون بنایا جاتا ہے تاکہ بچے مسجد میں آنے پر کوئی تنگی محسوس نہ کرے۔
  کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب بچے مسجد میں آتے ہیں تو انھیں ڈانٹ ڈپٹ کر بھگادیا جاتا ہے اور بعد میں انھیں لوگوں کو نمازی بنانے کے لیے لاکھوں کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔ یاد رکھئے، بچے ہماری نئی نسل اور آئندہ کے رہنما اور دین کے شیدائی ہیں۔ انھیں اس طرح ضائع نہ ہونے دیں۔ مسجد میں آنے والے بچوں کے ساتھ ہمارے رویہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر : ڈاکٹر محمد ابرار عارف

MillatAwareness #WahdatVision #Masjid #OurKids #Ramadan #WVPost20



1948ءکو اسرائیل نامی ملک دنیا کے نقشے پر ابھر آیا ،یہ داداگیری اور بڑی طاقتوں کا کھیل تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا ،مسلم حکومتیں منہ ...


1948ءکو اسرائیل نامی ملک دنیا کے نقشے پر ابھر آیا ،یہ داداگیری اور بڑی طاقتوں کا کھیل تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا ،مسلم حکومتیں منہ دیکھتے رہ گئے اخوانیوں نےاپنی حمیت کا اظہار ضرور کیا لیکن بڑی طاقتوں کے سامنے کسی کی کچھ نہ چلی ،امت کی اس پسماندگی کو دیکھ کر اسرائیل نے ایک اور فوجی حملے سے جو 1967میں کیا گیا تھا‘شام کی گولان پہاڑیاں ،مصر کی وادی سینا اور یروشلم پر قبضہ کرلیا ،یہ  قبضہ ظالمانہ تھا اور کسی نے بھی اسے تسلیم نہیں کیا،  لیگ آف نیشن جو UNO سے پہلے بنائی گئی تھی اس کے مطابق 1928کے بعد جو ملک جس سرحدکے ساتھ ہے وہی رہے گا کسی کا کسی پر حملہ اسے جائز نہیں بنا سکتا اسے واپس اپنی سرحدوں میں آنا ہوگا۔UNOکے باربار توجہ دلانے اور سیکڑوں قراردادوں کے بعد بھی اسرائیل نے نہ یروشلم ،گولان ہائٹس کو چھوڑا ہے اور نہ وادی سینا کو چھوڑا ۔ 1978 میں انوار سادات جو مصر کے صدر تھے انہوں نے اسرائیل سے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا ،جس کی رو سے سینا کی وادی مصر کو واپس ملی ہے ۔
گزشتہ برسوں میں امریکی صدر نے بین الاقوامی پروٹوکول کے خلاف اپنے سفارتخانے کو یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ،جبکہ یروشلم کا مشرقی حصہ ’’اردن ‘‘کے زیر انتظام رہا کرتا ہے ۔گزرے سال امریکہ نے سفارتخانے کو یروشلم منتقل کردیا ہے ،گویا اسے اسرائیل کی راجدھانی مان لیا گیا ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے دوبارہ ایک اعلان اور کیا اور شام کی گولان پہاڑیوں پر اسرائیل کا مستقل قبضہ تسلیم کرلیا ۔مانو اب یروشلم کی طرح گولان پہاڑ یا بھی اسرائیل کا حصہ ہو جائیگی ۔
رمضان المبارک کے ایک دن قبل وحشیانہ انداز میں فلسطینیوں پر بمباری کی گئی ۔حماس نے اپنی ٹوٹی پھوٹی طاقت سے جواب دیا ،ایک تنظیم اور ایک طاقتور ملک میں قوت آزمائی جاری ہے،ایسے وقت میں ’’امریکہ بہادر ‘‘نے اعلان کیا کہ ’’ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں ‘‘اس نعرے کے جواب میں ہمیں بلکہ سارے مسلمانوں کو جو اقتدار میں ہیں یا نہیں ہے ملکر کہنے کی ضرورت ہے کہ ’’ہم فلسطین کے ساتھ ہیں، ہم حماس کے ساتھ ہیں ‘‘ تاکہ ایسی بے بسی کی حالت میں فلسطینیوں کو ہمت و حوصلہ مل سکے۔

#MillatAwareness #WahdatVision #Gaza #Palestine #AlAqsa #AlQuds #Ramadan #WVPost19

بنارس ہندو مذہب کا اہم تیرتھ استھان ہے ،گھنی آبادی اور پتلی گلیاں اس کی پہچان ہے ،اسی گنجان آبادی کے درمیان ’’گیان واپی مسجد ‘‘کے تی...


بنارس ہندو مذہب کا اہم تیرتھ استھان ہے ،گھنی آبادی اور پتلی گلیاں اس کی پہچان ہے ،اسی گنجان آبادی کے درمیان ’’گیان واپی مسجد ‘‘کے تین گنبد اپنے وقتوں کی عظمت کا نشان بنے کھڑے ہیں۔اجودھیا کی بابری مسجد ،بنارس کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی جامع مسجد ان پر فرقہ پرستوں کی نظر بد گھڑی ہوئی ہے ۔6 دسمبر 1992کو اجودھیا میں کارسیوا کے نام پر لاکھوں جنونیوںکو جمع کیا گیا اور دن کی روشنی میں بابری مسجد ڈھا دی گئی ۔توڑنے والے آزاد اور بے مہار گھوم رہے ہیں ،جو اپنے حق کی بات کر رہے ہیں انہیں دنیا بھر کے مسائل سے سابقہ پیش آرہا ہے۔
نریندر مودی کے بنارس سے منتخب ہونے کے بعد جو شہر کی روپ ریکھا تیار کی گئی ہے اس میں ’’بنارس کوریڈور ‘‘کا منصوبہ بھی ہے اس منصوبے میں مسجد بیچ میں آتی ہے اور لاکھوں لوگوں کو اس کے اطراف جمع ہونے کی گنجائش پیدا کی جارہی ہے ۔گزشتہ دنوں ’’کوریڈور ‘‘بنانے کے ضمن میں ہی مسجد کے چبوترے کو ڈھا دیا گیا ۔شروعات ہو رہی ہے ’’کوریڈور ‘‘بنانے کے بعد لاکھوں لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور کارسیوا کے نام پر ’’گیان واپی مسجد ‘‘بھی شہید کی جاسکتی ہے ۔اس کا اندیشہ جتلایا جارہا ہے ۔وہاں کے امام مفتی عبدالباطن نعمان صاحب نے ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘کو بتایا کہ اس ’کوریڈور ‘سے اندیشے توبڑے لاحق ہے۔ چبوترا ڈھانے کے اطلاع رضوان الہی جو وہاں کے مساجد تحفظ کمیٹی کی سیکریٹری ہے ،انہوں نے دی ہے کہ گزشتہ دنوں اسے ڈھا دیا گیا تھا ۔مسلمانوں کی بھیڑ اکٹھا  ہوئی اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالا گیا تب جا کر انتظامیہ نے اس چبوترے دوبارہ بنانے کا وعدہ کیا ہے ۔
فرقہ پرستوں کی فہرست میں تین ہزار سے زائد مساجد ایسی ہے جنہیں وہ کسی نہ کسی وجہ سے ہتھیانے کے در پر ہے ۔سرفہرست یہ تین مساجد ہے جن میں بابری مسجد کی صورتحال ہمارے سامنے ہیں ،گیان واپی مسجد کو نقصان پہنچانے کی شروعات ہو چکی ہے۔جبکہ شہادت بابری مسجد کے بعد پارلیمنٹ نے باضابطہ ایک قانون پاس کیا تھا کہ 15اگست 1947 کو جو عبادت گاہ جس روپ میں اور جس کی ہوگی اس کی حیثیت ویسی ہی تسلیم کی جائیں گی ۔سوائے بابری مسجد کے کیوں کے اس کا مسئلہ ہی پیش نظر تھا ۔اس اعتبار سے گیان واپی مسجد 15 اگست1947 کو مسجد ہی کی حیثیت سے ریکارڈ پر موجود ہے بلکہ اس سے بھی چار سو سال پہلے اور نگ زیب عالمگیر نے اس مسجد کی تعمیر کی تھی اس کا بھی ریکارڈ موجود ہے ،تب کیا خطرہ ہوسکتا ہے ۔اصل میں حکمرانوں کی نیتوں کا بھروسہ نہیں ہے ،عوامی چاہت کو ہوا دے کر اسے شعلہ بنایا جاتا ہے اور ہر ’’قانون ‘‘اور ’’قدر ‘‘دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔
بنارس کے مسلمانوں کو یقین دلانا چاہیے کہ ہم سب ہر حال میں آپ لوگوں کے ساتھ ہے کسی بھی ایسی حرکت کا فی الفور نوٹس لیا جائے گا ۔ہمت حوصلہ جو ایمانی شان کےمظاہرہیںہر صورت میں باقی رہیں گے جب کسی قوم کے شعائر کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کی تہذیب فنا ہونا شروع ہوتی ہے اور عقیدہ و نظریے میں  اضمحلال ہو تو قومصفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ۔ ان حالات میں ایمان اپنی تہذیب کے ساتھ رہنے کا عزم ہیہمیں اپنے شعائرکے تحفظ اور اس کے قدردانی کے لئے تیار کر پائے گا۔

#MillatAwareness #WahdatVision #GyanVapiMasjid #BanarasCorridor #HinduTerror #WVPost18

رمضان میں سحر و افطار کی لذت سے ہمکنار ہونے والوں!!!  ذرا فلسطین میں ہونے والے واقعات وہ حالات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں ۔5 مئی 2019 ...


رمضان میں سحر و افطار کی لذت سے ہمکنار ہونے والوں!!!  ذرا فلسطین میں ہونے والے واقعات وہ حالات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں ۔5 مئی 2019 کو غزہ پر فضا سے بم برسائے گئے اور سمندری راستے بھی حملہ کیا گیا ،کم و بیش 43 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ،رمضان المبارک کا آغاز شہادتوں سے ہوا ہے ،جنازے اٹھائے گئے اور انہیں دفنایا بھی گیا ہے۔
حق و باطل کی کشمکش کا پہلا معرکہ غزوہ ٔبدر کے حوالے سے جانا جاتا ہے جو ۱۷؍رمضان المبارک ۲؍ ہجری کو وقوع پذیر ہوا تھا ، توحید کا گھر ‘خانہ کعبہ جو مکہ میں واقع ہے اسے ۲۰؍ رمضان المبارک ۸؍ ہجری کو فتح کیا گیا گویا رمضان المبارک زورآزمائی کی ایک تاریخ اپنے اندر رکھتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل ۹؍ رمضان پائے، نومیں سے آٹھ رمضان وہ ہے جس میں یا تو کوئی جنگ ہوئی یا جنگی تیاری کی گئی یا جنگ کے بعد جو حالات ہوتے ہیں اسے سنبھالا دیا۔صرف ایک رمضان جو آپ کا آخری رمضان تھا کسی قدر امن سے گزرا جس میں آپ نے اعتکاف بھی فرمایا۔اس کے بعد بھی رمضان میں جنگی معرکے ہوتے رہے اور اسلامی فتوحات کا دور دورہ جاری رہا ۔بلاط الشہداء اور افریقہ میں فتوحات کی شروعات میں رمضان المبارک کا بڑا حصہ رہا ہے ۔مغلان ترک بالخصوص تیمور لنگ اپنی جنگوں کی شروعات رمضان المبارک سے کیا کرتے تھے۔
تاریخ کے بکھرے صفحات پراگر ہم نظر رکھے اور رمضان سے متعلق ہمارا جو رویہ ہے اس پر نظر ڈالے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔سحر تا افطار اے سی روم، آرام ،سونا ،وقت گزاری کے لیے دیگر مشغولیات میں مگن ایک ایک دن کو کاٹنا ، یہ مہینہ  سعی وجہد ،بھاگ دوڑ ،محنت و مشقت ،حسب معمول کارہائے نمایاں سے بھی بچنے کے لئے ہی ہے تو ہمارا ماضی تاریخ کے جھروکے سے ہمیں کیا دکھلاتا ہے۔غزہ کے مسلمانوں اے شام کے رہنے والو ،افغانی جیالوں ،صلح کی پابندی کرنے والے یمنی مجاہدوں ،چین کی اوپن جیل میں تکلیفوں کو جھیلنے والوں ،میانمار کی سرحدوں کے پار سمندری لہروں  پر زندگی کی پتوار چلانے والے بے بس انسانوں، تم تو مبارکباد کے مستحق ہو جنہوں نے تاریخ کے ایک عمل کو رمضان المبارک میں بھی جاری و ساری رکھا ہے ۔نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پاکو دل و جان سے لگا رکھا ہے۔


#MillatAwareness #WahdatVision #Gaza #Palestine #Ramadan #WVPost17

چاند دیکھ کر دعا کریں۔ سارے مہینے روزے رکھنے کا ارادہ کریں۔ قرآن کی تلاوت اور ترجمہ کم از کم ایک بار پورا کریں، جہاں قرآن اچھا پڑ...


  • چاند دیکھ کر دعا کریں۔ سارے مہینے روزے رکھنے کا ارادہ کریں۔
  • قرآن کی تلاوت اور ترجمہ کم از کم ایک بار پورا کریں، جہاں قرآن اچھا پڑھا جاتا ہوں وہاں تراویح پڑھیں،  8 یا 12 رکعت پر بحث نہ کرے جو جس مسلک سے مطمئن ہوں اسے اختیار کریں۔
  • نماز تراویح کے بعد خلاصہ ٔقرآن کا اہتمام کریں۔
  • رمضان المبارک میں صلہ رحمی کا خاص اہتمام کریں۔
  • غریب رشتے داروں اور مستحقین تک ان کی ضروریات پہنچائیں۔
  • ’’ایمان و احتساب ‘‘کے ساتھ ’’شب قدر ‘‘کی تلاش کریں۔
  • خواتین کو کم سے کم خریداری کے لیے زحمت دیں، اس کے بجائے مرد حضرات بازار سے خریداری فرمائیں۔
  • اگر ہوسکے تو رمضان سے قبل یا پہلے عشرے میں ہی عید کی خریدی مکمل کر دیں۔
  • زکوۃ و صدقات نکالنے والے اہل خیر حضرات سے گزارش ہے کہ وہ زکوۃ،صدقہ ،خیرات و عطیات رمضان کے پہلے عشرے میں ہی نکال دے تاکہ غریبوں کو خریداری کے لیے آخری عشرے کا انتظار نہ کرنا پڑے۔
  • آخری عشرے میں انفرادی عبادتوں پر خصوصی توجہ دیں بالخصوص توبہ ،استغفار ،اعتکاف وغیرہ کا اہتمام کریں۔
  • نمازِجمعہ و نمازِتراویح وغیرہ میں نمازیوں کی تعداد کے بڑھنے سے انتظامی امور کا خاص خیال رکھیں ،دروازوں پر سیکیورٹی کا اہتمام کریں، ممکن ہو تو دروازوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائے۔
  • ٹرافک اور مانگنے والوں کو دروازے پر بھیڑ سے دور رکھنے کا اہتمام کرے۔


#MillatAwareness #WahdatVision #Ramzan #RamzanApp #Ramadan #WVPost15

عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 3شہروں کے گرجا گھروں میں اور 3 ہوٹلوں میں 8 بم بلاسٹ ہوئے جن میں حالیہ خبروں کے مطابق 3...


عیسائیوں کے تہوار ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے 3شہروں کے گرجا گھروں میں اور 3 ہوٹلوں میں 8 بم بلاسٹ ہوئے جن میں حالیہ خبروں کے مطابق 321 جانیں گئیں ہے اور 400 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں ۔ حادثے کے خاتمے پر فوری مسلمانوں کی ایک جماعت جو غیر معروف ہے ’’نیشنل توحید جماعت ‘‘کا نام سرخیوں میں آچکا ہے ۔ بھارت کے ایجنسیوںنے تو اصل ماسٹر مائنڈ کا نام بھی اپنے خبروں میں شائع کر دیا ہے ،جبکہ سری لنکا کی حکومت نے کسی شخص کا نام لیا ہے اور نہ کسی جماعت اور تنظیم کا ۔ظاہر کی گئی خبروں میں ایک بدھسٹ کو برقعہ میں پکڑا گیا جس کی کمر پر بم بندھے ہوئے تھے ، کیا یہ شدت پسند بدھسٹوںکی کوئی کاروائی ہے ؟ جس میں عیسائیوں کو نشانہ بنانا اور الزام مسلمانوں کے سر دھردینا جیسی کوئی بات ہے ، بھارت میں بھی مالیگاؤں بلاسٹ ،اجمیردرگاہ بلاسٹ ،سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ ،جالنہ کی مسجد میں ہوئے بلاسٹ میں ’’دہشت گرد ‘‘ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے ،لیکن گرفتاریاں ساری جگہوں پر مسلمانوں کی ہی ہوئی جبکہ نقلی داڑھیاں، ٹوپیاں وغیرہ بھی پولیسی گرفت میں آئیں ہے ،لیکن یہ راز بھی بڑی دیر سے کھلا جبکہ ہیمنت کرکرے نے اپنی تفتیشی کارروائی میں ’’ہندو آتنکواد ‘‘کے چہرے کو بے نقاب کیا۔ دنیا میں 376 گروپس ہے جو دہشت گردی کی راہ کو اپنائے ہوئے ہے ان میں سے جو مسلمان شدت پسند گروپس ہے ان کی تعداد صرف 76 ہے۔


#MillatAwareness #WahdatVision #Ittehad #MuslimsInIndia #SriLankaAttack #Terrorism #WVPost14

جب کسی انسان کا معدہ خراب ہوجاتا ہے تو اس کو اچھی غذا پسند نہیں آتی جب کسی قوم کا مزاج بگڑجاتا ہے تو اس کو خود اپنی بھلائی کی بات بھی...


جب کسی انسان کا معدہ خراب ہوجاتا ہے تو اس کو اچھی غذا پسند نہیں آتی جب کسی قوم کا مزاج بگڑجاتا ہے تو اس کو خود اپنی بھلائی کی بات بھی اچھی نہیں لگتی ۔انسانی فطرت ہی کچھ ایسی رہی ہے کہ جب کوئی قوم مسلسل کسی راستے پر چلتی رہتی ہے تو وہ اسی کی عادی اور اسی کی خوگر ہوجاتی ہے وہی اس کا مزاج بنجاتا ہے اور وہی اس کی فطرت میں ڈھل جاتا ہے اگرچہ وہ راستہ کتنا ہی تنگ اور غیر معقول ہو کتنا ہی پرخطر اور ہلاکت خیز ہو اور کتنا ہی ذلت اور رسوائی کی غلاظتوں سے پر اور متعفن ہو ۔ہزار دلائل سے اس راہ کی ضلالت و مضرت کو ثابت کردیجئے مگر کوئی دلیل اور کوئی حجت اس کےفکر و ذہن کو اپیل نہیں کرسکتی ۔ اس کے نزدیک اس راستے کی صحت و صواب کےلئے یہی دلیل کافی ہے کہ اس نے اس راستہ پر اپنے خود ساختہ مقتداوں اور پیشواؤں کو چلتے دیکھا ہے ۔ پھر اس کو اس راہ سے ہٹانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔ ہزار ٹھوکریں کھاکر اور ذلت اور رسوائی کے ہزار مراحل سے گزر کر بھی وہ اسی راستے پر چلتی رہتی ہے اور کسی صورت اس کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی اس کو ہر دوسرا راستہ خواہ وہ کتنا ہی فطرت سے ہم آہنگ اور عقل کے قریب ہو اور کتنا ہی صاف سیدھا اور محفوظ تر ہو ایک اجنبی اور غیر مانوس راستہ معلوم ہوتا ہے ۔ایسے حالات میں جب بھی کوئی خدا کا بندہ اس بھٹکی ہوئی قوم کو سیدھا راستہ دکھانے کےلئے اٹھا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کو اجنبی نگاہوں سے دیکھا گیا ہے بلکہ اس کو اپنی قوم کی طرف سے شدید مزاحمت اور سخت منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔
فرعون نے پوری قوم کو اپنا غلام بنا رکھا تھا خود کو خدا کہلواتا تھا ،موسی علیہ السلام قوم کو فرعون کی غلامی اور اس کے مظالم سے نجات دلاکر ایک خدا کی بندگی (مکمل انسانی آزادی) اور دائمی خیرو فلاح کی طرف بلارہے تھے مگر فرعون کے ظلم کی چکی میں پس رہی قوم نے موسی علیہ السلام کے ذریعہ دئیے جانے والے آزادی کے پیغام کو قبول کرنے سے انکار کردیا جبکہ یہ عین اس کی فطرت کی آواز تھی ۔کیوں کہ اب وہ غلامی کے رنگ میں پوری طرح رنگ چکی تھی اور اب اس کے اندر غلامی کے سوا کسی دوسری بات کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت باقی نہیں رہی تھی ۔
اہل مکہ اپنی تمام تر معاشرتی خرابیوں کے باوجود ایک آزاد فطرت اور خوددار قوم تھے مگر ایک طویل عرصہ سے شرک کے راستے پر چلتے چلتے وہ اصنام پرستی (مخلوق کی غلامی) کے ایسے خوگر ہوچکے تھے کہ اب ان کا ضمیر اس کے خلاف کوئی بات سننے اور ماننے پر آمادہ نہ تھا ۔ پیغمر انقلاب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو ایک بڑے اور دائمی خطرہ (آخرت کے عذاب) سے آگاہ کیا اور ان کو شرک کے راستے کو چھوڑ کر توحید کی طرف آنے کی دعوت دی تو عین فطرت انسانی سے ہم آہنگ نبی کی اس صدا پر اہل مکہ کا رد عمل بالکل غیر فطری اور غیر انسانی تھا ۔۔ چنانچہ انہوں کہا ۔ تبا لک یا محمد الھذا جمعتنا ۔ تیرا ناس ہو اے محمد ( نعوذ باللہ)کیا تونے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا ۔ پیغمر کی یہ آواز ان کے لئے ایک اجنبی اور غیر مانوس آواز تھی ۔ جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا ۔۔ اجعل الالہتہ الہ واحدا ان لشیء عجاب * وانطلق الملء منھم ان امشوا واصبروا علی آلہتکم ان ھذا لشیء یراد * ؛؛ یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ یہ شخص تمام خداوں سے ہٹاکر ایک ہی خدا پر جمع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ چلو اپنے اپنے معبودوں پر جمے رہو یہ تو کوئی منظم اور سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے ۔ انسانی تاریخ میں دنیا کی غلام قوموں کا ہمیشہ یہی طرز عمل دیکھنے کو ملتا ہے ۔
ہندوستان پر صدیوں تک فرمانروائی کرنے والی مسلمان قوم بھی ایک زندہ اور غیرت مند قوم تھی مگر دوسو سال کی پہہم غلامی نےاس کے دل و دماغ اور فکر و ضمیر پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے اور اب اس کا مزاج اس قدر بگڑ چکا ہے اور اس کا ضمیر اس قدر مضمحل ہوچکا ہے کہ کفر کی جس غلامی سے نجات کے لئے اس کےاسلاف نے دو صدیوں تک انگریز کے خلاف شدید جنگ لڑی تھی اور باطل کے جس نظام سے چھٹکارے کےلئے انہوں نے جان و مال کی بے مثال قربانیاں دی تھیں آج یہ قوم اسی کفر کی غلامی پر فخر کررہی ہے اور باطل کے اسی نظام کی محکومیت کو آزادیٔ اسلام کا نام دے رہی ہے ۔اب جمہوریت پر اس کا کامل ایمان ہے اب سیکولرازم اس کا پختہ عقیدہ ہے اب خلافت اسلامیہ کا نظریہ اس کے نزدیک ایک باطل نظریہ ہے اب اسلامی نظام اس کے نزدیک ایک ناپسندیدہ نظام ہے ۔اب اظہار علی الدین کلہ ۔ کے کوئی حقیقی معنی نہیں اب سورہ انفال  اور سورہ توبہ کی کوئی عملی تفسیر نہیں ۔ اب تجارت و معیشت کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ۔ اب سیاست و حکومت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔اب اسلام کا ہر وہ حکم جو اس کی ہم وطن غیر مسلم اقوام کی طبیعتوں کو ناپسند اور گراں بار ہو اس کے نزدیک منسوخ ہوچکا ہے اور اب اس کا نام لینا بھی اس کے نزدیک کسی جرم سے کم نہیں ہے ۔۔
یہ اس قوم کی صورت حال ہے جس نے بحیثیت مسلمان اس ملک پر قریب آٹھ سو برس تک حکمرانی کی ہے اور آج اس کے طرز حیات کو سامنے رکھ کر اسلام کی تھوڑی بھی فہم رکھنے والا ایک شخص یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آج یہ قوم اپنے کردار و عمل سے جس اسلام کی ترجمانی کررہی ہے کیا یہ وہی اسلام ہے جو قرآن و سنت کی شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکر گئے ہیں ،کیا یہ وہی اسلام ہے جو صحابہ تابعین تبع تابعین اکابر امت اور اس کے اسلاف کے ذریعہ اس تک پہنچا ہے ؟اس قوم کے حالات زندگی کو سامنے رکھ کر تاریخ آزادی ہند کا مطالعہ کرنے والا ایک شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے ،کہ کیا یہی وہ آزادی ہے جس کے حصول کی خاطر ہمارے اسلاف نے انگریز کے خلاف قریب دوسو سال تک جنگ لڑی تھی ؟؟وہ یہ فیصلہ نہیں کرپارہاہے کہ آخر انگریز کی غلامی اور موجودہ آزادی کے درمیان وہ کونسی امتیازی حدود تھیں جنہیں ڈھانے کےلئے ہمارے اکابر نے سخت ترین جدوجہد کی تھی اور قید و بند کی ہولناک صعوبتیں برداشت کی تھیں ؟؟وہ سمجھ ہی نہیں پارہا ہے کہ آخر وہ کیا مقاصد تھے کہ جن کے حصول کی خاطر ان بزرگوں نے انگریز کے خلاف ٹکراو اور تصادم کی راہ اختیار کی تھی اور بے شمار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔اس کے ذہن کے اندر یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ جن مقاصد کے لئے جنگ آزادی لڑی گئی تھی وہ کس حد تک حاصل ہوئے ؟؟ یا پھر وہ حاصل ہوئے بھی یا نہیں ؟ وہ تشکیک کا شکار ہے کہ اس کے بزرگوں کا انگریز کے خلاف جنگ و جدل کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط ؟
جس انسان کے فکر و ذہن کے اندر زندگی کی کوئی حرارت موجود ہے اس کے لئے یقینا یہ زندہ سوالات ہوسکتے ہیں ۔مگر اب اس زوال یافتہ اور محکوم قوم کے نزدیک ان سوالات کی کوئی اہمیت نہیں ۔اب اسلاف کی تابناک تاریخ میں اس کے لئے روشنی کی کوئی کرن موجود نہیں ۔ اب اس کے بزرگوں کی وہ عظیم تاریخ اس کے لئے ایک داستان پارینہ بن چکی ہے ۔ اب ان سوالات پر گفتگو کرنے والا گنہگار ہے اب اسلاف کی سیرت پر بات کرنے والا مجرم ہے ۔اب غلامی کے مزاج میں پختہ تر کردینے والے نام نہاد رہنما اس کے پسندیدہ ہیرو ہیں اب غلامی کے پنجرے میں قومی تعمیر کی باتیں کرنے والے خودساختہ قائدین اس کے محبوب ترین مسیحا ہیں ۔یہ ہے ملت اسلامیہ ہند کی وہ نازک صورتحال جس میں بڑے بڑے ارباب علم و دانش اور بڑے بڑے اصحاب فکر و فہم بھی میدان عمل میں اتر نے کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم ایسے نازک حالات میں کیا کرسکتے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہئیے ۔تو ہمیں سب سے پہلے اس کائنات میں بکھرے ہوئے ان پوشیدہ امکانات پر نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے جو ہر عسر میں یسر کی طرف رہنمائی کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔تاریخ بتاتی ہے کہ ہر دور فساد میں ہمیشہ کچھ ایسے سلیم الفطرت افراد پائے جاتے رہے ہیں جن کے اندر حق اور سچائی کو جاننے سمجھنے اور اس کو قبول کرنے صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔یہی نفوس صالحہ اپنے وجود سے تاریکیوں کے پردوں کو چاک کرتے ہیں اور کسی نئی صبح کی نوید ثابت ہوتے ہیں ۔اور گاہے گاہے سہی لیکن بہرحال اس امت کےاندر بھی ابھی ایسے پاک طینت اور صالح طبیعت افراد موجود ہیں جو اس قوم کے موجودہ حالات پر فکر مند ہیں اور جن کے سینے کے اندر ایک کڑھن اور ایک بےچینی کا احساس پایا جاتا ہے ۔ہم انہیں منتشر نفوس کو آواز دینا چاہتے ہیں کہ وہ خدا کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرکے پردہ خفا سے باہر آئیں ۔ باہم مربوط ہوں ۔ ایک جگہ جمع ہوں ۔ حالات کے اشارات اور مضمرات کو سمجھیں ۔ اور ملت کی تعمیر نو کے لئے کوئی صحیح اور موثر لائحہ عمل طے کریں کہ یہی حالات کا تقاضا اور یہی وقت کی پکار ہے ۔

تحریر
 محمد ہارون قاسمی ، (بلند شہر )
فون ، 9412658062

#MillatAwareness #WahdatVision #Ittehad #MuslimsInIndia #TrueIslam #WV11